Showing posts with label Entertainment. Show all posts
Showing posts with label Entertainment. Show all posts

Monday, 13 April 2020

The Reality of Zulfiqar Ali Bhutto The Fall of Dhaka What Happened in History of Pakistan

April 13, 2020 0

The Reality of Zulfiqar Ali Bhutto The Fall of Dhaka What Happened in History of Pakistan 

The Reality of Zulfiqar Ali Bhutto The Fall of Dhaka What Happened in History of Pakistan
The Reality of Zulfiqar Ali Bhutto The Fall of Dhaka What Happened in History of Pakistan 

ذوالفقار علی بھٹو نے مادر ملت فاطمہ جناح کو اتنخابات میں ہرانے کے لیے ان پر تہمت تک لگائی اور انکے خلاف تقریر کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ کہا کہ:

"اس نے شادی کیوں نہیں کی ہے؟؟؟"

کہا جاتا ہے کہ بھٹو کا یہ شرمناک الزام سن کر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کچھ غیر ملکی صحافی رو پڑے تھے کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس خاتوں پر بہتان لگا رہی ہے جس کو یہ مادر ملت یعنی " قوم کی ماں " کہتے ہیں، قائد ملت کی بہن پر یہ تہمت اس جمہوری چیمپئن کے چہرے پر وہ داغ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکے گا۔

1965ء کی جنگ کے حوالے سے انتہائی لبرل اور فوج مخالف سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کے مطابق یہ بھی بھٹو کی اقتدار ھوس کا ہی نتیجہ تھا ان کے الفاظ یہ ہیں:

"طارق علی کافی مشہورسٹوڈنٹ لیڈر تھے، انہوں نے اس وقت ذوالفقار بھٹو سے 1965ء کی جنگ کے بارے میں پوچھا جب وہ ایوب خان کو چھوڑ چکے تھے کہ یہ جنگ آپ نے کیوں کی تھی؟؟؟ اور آپ نے کی تھی یا انڈیا نے؟؟؟
بھٹو نے جواب دیا: کہ ہم نے کی تھی مجھے یقین تھا کہ اگر ہارتے ہیں تو ایوب خان گر جائیگا، ایوب خان گرے گا تو میرا راستہ کھل جائیگا۔اگرجیت گئے تو ہیرو بن جائنگے کیونکہ میں ہی وزیر خارجہ تھا، دونوں صورتوں میں میری جیت تھی۔"

محض اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے ذولفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا، اگر پاک فوج اپنی جانوں پر نہ کھیلتی تو شائد ہم لاہور ہار جاتے۔

شیخ مجیب جب اگرتلہ سازش میں پکڑا گیا اور ایوب خان اس کو غداری کے جرم میں سزا دینے لگا تو اس کو چھڑانے کے لیے بھٹو نے ملک گیر مہم چلائی اور بدترین حالات میں انتخابات کا مطالبہ کر دیا، لیکن جب شیخ مجیب نے انتخابات میں کلین سویپ کیا اور بھٹو کے مقابلے میں دگنے ووٹ لے لیے تو بھٹو نے اقتدار اس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور اس کو غدار قرار دیا اور یہ مشہور نعرہ لگایا:

" ادھر تم ادھر ہم "

اسکے باوجود جب کچھ لوگوں نے شیخ مجیب کے ڈھاکہ میں بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی بات کی تو بھٹو نے دھمکی دی کہ:

"جو ڈھاکہ گیا میں اسکی ٹانگیں توڑ دونگا۔"

بنگال الگ ہوا، بچے ہوئے پاکستان پر بھی بھٹو کی جمہوری حکومت نہ بن سکی اور بھٹو تین سال تک کے لیے سول "مارشل لا" ایڈمنسٹریٹر بن گیا۔

اس حوالے سے روئیداد خان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ:

" بھٹو نے مجھے رات کو دس بجے بلایا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ جاگ رہے ہونگے، میں نے کہا کہ کتاب پرھ رہا ہوں، کہنے لگا یہ ٰیحیی نے کیا کر دیا، اس نے مجھ سے پوچھے بغیر ڈھاکہ اجلاس کی تاریخ طے کر لی، یہ تاریخ غلط فکس کی گئی ہے، اس کو چینج کراؤ، میں نے کہا کیسے؟؟؟ بنگالی تو مان گئے ہیں، بھٹو نے کہا بہت آسان ہے، ڈھاکہ میں ایک لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کراؤ، ٹیر گیس ہوگی، لاٹھی چارج ہو گی، کچھ لوگ مرینگے، تاریخ تبدیل ہو جائیگی۔"

روئیداد خان کے مطابق بھٹو نہیں چاہتے تھے کہ ڈھاکہ میں اجلاس ہو، کیونکہ بھٹو سمجھ گئے تھے کہ جب تک مشرقی پاکستان، پاکستان کا حصہ ہے وہ کبھی وزیراعطم نہیں بن سکتے، کیونکہ وہ کبھی مجیب سے نہیں جیت سکتے۔

اس لیے مارچ سے ستمبر تک بھٹو نے کچھ نہیں کیا، جب پاک فوج ملک بچانے کے لیے دیوانہ وار لڑ رہی تھی، اگر اس وقت بھٹو سیاسی بھاگ دوڑ کرتے اور مجیب کو راضی کر لیتے تو شائد یہ سانحہ نہ ہوتا۔

پھر جب انڈیا نے حملہ کیا اور ملک ٹوٹنے کی نوبت آگئی تو وہ اس کو اقوم متحدہ میں روکنے کے بجائے کاغذات پھاڑ کر، اجلاس چھوڑ کر آگئے، اس نے بنگالیوں کو " سور کے بچو " کہہ کر مخاطب کیا، اسکی وہ تقریر آج بھی سنی جا سکتی ہے۔

پاکستان ٹوٹ گیا، بھٹو نے جناح کے پاکستان کو قتل کر دیا، محض اس لیے کہ اسکو اقتدار مل سکے، بلاآخر بھٹو کو اقتدار مل گیا، عوام کو پہلی بار ضروریات زندگی کی اشیاء جیسے آٹا اور چینی کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا اور انکو مہنگائی کے معنی معلوم ہوئے۔

احمقانہ معاشی فیصلوں اور کمزور سفارت کاری نے ایسے معاہدات کروائے کہ پاکستان کو اپنے کئی سال کی چاول کی فصل شہنشاہ ایران کی ضمانت پر گروی رکھوانی پڑی، اور شملہ معاہدے میں جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن قرار دیا گیا، دوسرے لفظوں میں اپنے پانیوں کو انڈیا کے حوالے کرنا پڑا۔

وولر بیراج کے معاملے میں انڈیا کو نہ روکا جا سکا، ہاں جنرل ضیاء کے پیدا کیے گئے مجاہدین نے بعد میں اس پر حملے کر کے اسکی تنصیبات کو کئی بار تباہ کیا، بعد میں بھی حالات کچھ اچھے نہ رہے، بھٹو نے جس سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا اس کے متعلق انکی اہلیہ نصرت بھٹو نے برملا اعتراف کیا تھا کہ یہ مارکسزم سے اخذ کیا گیا ہے، جس نے کروڑوں کو خدا کی ذات کا منکر کر دیا اور آج بھی کر رہے ہیں، اسکے نتیجے میں صتعتیں قومیا لی گئیں جس سے نہ صرف ملک سے سرمایہ نکل گیا بلکہ صنعتیں اور بعض ادارے ایسے تباہ ہوئے کہ آج تک دوبارہ نہیں اٹھے۔

شراب کھلی عام پی جانے لگی، پاکستانی میڈیا پر پہلی بار بےحیائی اس دور کے لحاظ سے نظر آنے لگی، یہانتک کہ کراچی میں دنیا کا سب سے بڑا کیسینو بننا شروع ہوا جس کا مہیب ڈھانچہ شائد آج بھی کلفٹن کے ساحل پر موجود ہے، جمہوری حکومت کے اس شاندار کارنامے کے بعد وہاں جو کچھ ہوتا اس سے کم از کم اسلامی دنیا میں پاکستان کے "وقار" میں زبردست اضافہ ہوتا۔

بھٹو کے خلاف تحریک نے زور پکڑا اور آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کر لیا، تو بھٹو نے اعلان کیا کہ "میرے ہاتھ میں علی رضی اللہ عنہ کی تلوار ہے ۔"

سمجھنے والے خوب سمجھتے ہیں کہ اسکا کیا مطلب تھا، ملکی سیاست میں پہلی بار فرقہ وارانہ رنگ بھر دیا گیا، یہ رنگ نہیں بلکہ زہر تھا، اسکا یہ اثر ہوا کہ ظفر علی شاہ روڈ پر جیالوں نے مولانا شاہ احمد نورانی کی داڑھی نوچی، انکا جبہ پھاڑا اور اسکی پگڑی لیر لیر کر کے لے گئے، سو یہودی ایک مودودی کے نعرے لگے، بھٹو صاحب کے مصلوب ہونے پر یہ فرقہ وارانہ رنگ اور شدید ہو گیا اور آج تک قائم ہے۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بھٹو کے اس نعرے کا اثر یہ ہے کہ آج بھی ملک کی تیس فیصد آبادی فرقے کی بنیاد پر ووٹ ڈالتی ہے، میری یہ بات کچھ لوگوں کو سخت لگے گی لیکن یہ سچ ہے۔

"بھٹو نے امریکی مخالفت کے باوجود ایٹمی پروگرام پر کام جاری رکھا جسکی ضیاء نے اس سے زیادہ تیز رفتاری سے تکمیل کی لیکن ان حالات میں ملکی سالمیت جس خطرے سے دوچار تھی اسکو ایٹم بم بھی نہیں بچا سکتا تھا۔"

سن 1977ء کے انتخابات میں کھلی دھاندلی پر پورا ملک سراپا احتجاج تھا، اور بہت سی جانوں کے ضیاع اور فسادات کے بعد بھٹو کو پاکستان قومی اتحاد کے دوبارہ الیکشن کے مطالبے کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے، لیکن جب دستخط کا موقع آیا تو بھٹو عین وقت پر مسلم ملکوں کے دورے پر چل دئیے اور مخالفین بھٹو کی اس چال یا دھوکے کو سمجھ کر چیخ اٹھے، یہاں تک کہ ملک میں سول وار برپا ہونے کے لیے سٹیج بلکل تیار ہو گیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب جنرل ضیاءالحق نے ایک فرض شناس سپاہی کی طرح میدان میں آنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک کی خود اپنے آپ کو برباد کر دینے کی سمت میں جاری اس مارچ کو روکا جا سکے، اور برطانوی پارلیمانی طرز جمہوریت کی اس بساط کو لپیٹ دیا گیا۔

یہ ہے حقیقت بھٹو زندہ ہے کی، لیکن اس ملک کی قوم میں جب تک شعور نہیں آئے گا، تب تک اس ملک میں غدّار زندہ ہی رہیں گے اور جرنیل چاہے لاکھ مُلک کا بھلا کر جائیں آمر ہی کہلائیں گے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میری قوم کو عقل و شعور عطا فرمائے آمین۔

A Heart Touching Story by Ashfaq Ahmed Book Zavia Why God Punishes People

April 13, 2020 0

A Heart Touching Story by Ashfaq Ahmed Book Zavia Why God Punishes People

A Heart Touching Story by Ashfaq Ahmed Book Zavia Why God Punishes People
A Heart Touching Story by Ashfaq Ahmed Book Zavia Why God Punishes People

” اللہ اپنے بندے کو سزا کیوں دیتا ہے؟ مجھے اس سوال کا ایسا جواب ملا کہ آج تک مطمئن ہوں!

ہمارے ویٹنری veterinary ڈپارٹمنٹ کے ایک پروفیسرصاحب ہوا کرتے تھے. میرے اُن سے اچھے مراسم تھے. ایک دفعہ میں ان سے ملنے ان کے دفتر گیا۔
وہ مجھ سے کہنے لگے ایک مزے کا قصّہ سناؤں تمھیں ؟ 
میں نے کہا: جی سر ضرور... !
انھوں نے کہا کہ پچھلے ہفتے کی بات ہے  میں اپنے دفتر می‍ں بیٹھا تھا اچانک مجھے پیغام ملا کہ امریکہ کی سفیر آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔اُن کے کتے کو کچھ پرابلم ہے اس کا علاج کردیجیے 
 کچھ ہی دیر بعد وہ خاتون سفیر اپنے اعلٰی نسل کے کتے اور اپنے ضروری  عملے کے ساتھ آن پہنچیں.
بیماری پوچھنے پر کہنے لگیں کہ میرے کتے کے ساتھ عجیب و غریب مسئلہ ہے . وہ میرا نافرمان ہوگیا ہے .اسے میں پاس بلاتی ہوں یہ دور بھاگ جاتا ہے . خدارا کچھ کریں یہ مجھے بہت عزیز ہے
 اس کی بے اعتنائی مجھ سے سہی نہیں جاتی!!

میں نے کتے کو غور سے دیکھا، دس منٹ جائزہ لینے کے بعد میں نے کہا: میم! یہ کتا ایک رات کے لیے میرے پاس چھوڑ دیں میں اس کامعائنہ کر کے حل ڈھونڈتا ہوں...  سفیر محترمہ نے بڑی بے دلی سے اسے چھوڑ جانے پر حامی بھرلی.

سب چلے گئے تو میں نے کمدار کو آواز لگائی۔  اور اس سے کہا : فیضو، اس کتے کو بھینسوں کے باڑے میں باندھ دے  اور ہر آدھے گھنٹے بعد چمڑے کے چار پانچ لتر مارنا اس کے بعد صرف پانی ڈالنا، جب پانی پی لے تو پھر لتر مارنا!

کمدار جٹ آدمی تھا۔ ساری رات کتے کے ساتھ لتر ٹریٹمنٹ کرتا رہا!
 
صبح کو وہ خاتون سفیر ، پورا عملہ لیے میرے آفس میں آدھمکیں ! میں نے کمدار سے کتا لانے کو کہا، وہ کتا لے آیا. 
جوں ہی کتا کمرے میں داخل ہوا چھلانگ لگا کے سفیر کی گود میں جا بیٹھا  لگا دم ہلانے اور ان کا منہ چاٹنے لگا!

ساتھ ہی کتا مُڑ مڑ تشکر آمیز نگاہوں سے مجھے بھی تکتا رہا کیونکہ میں نے ہی کمدار سے اس کی رسّی چھڑائی تھی .  
   سفیر پوچھنے لگی سر آپ نے اس کاکیا علاج  کیا کہ اچانک ہی یہ ٹھیک ہو گیا. 
میں نے جواب دیا :ریشم و اطلس ، ایئر کنڈیشن روم  اور اعلی خوراک کھا کھا کے یہ خود کو مالک سمجھ بیٹھا تھا اور اپنے مالک کی پہچان بھول گیا تها، بس اس کا یہ خناس اُتارنے کے لیے اس کو کچھ سائیکولوجیکل اور  فیزیکل ٹریٹمنٹ کی ضروت تھی,  وہ دے دی ۔۔۔ ناؤ ہی از اوکے!

اللہ بندے کو سزا کیوں دیتا ہے ؟ 
مجھے اس سوال کا ایسا جواب ملا کہ آج تک مطمئن ہوں !! “
..........

Wednesday, 8 April 2020

Latest Pakistani News About Corona Virus Lockdown in Pakistan Covid-19

April 08, 2020 0

Latest Pakistani News About Corona Virus Lockdown in Pakistan Covid-19

Latest Pakistani News About Corona Virus Lockdown in Pakistan Covid-19
Latest Pakistani News About Corona Virus Lockdown in Pakistan Covid-19

      پنجاب، لاک ڈاؤن مزید سخت، توسیع کا فیصلہ صوبہ سب سے زیادہ متاثر، لاہور میں وباء پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا، کسی قسم کی نرمی کی بھی مخالفت، ملکی اور چینی ماہرین کی خفیہ رپورٹ میں حکومت کو انتباہ

لاہور  کرونا کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے دفعہ 144 کے تحت لگائے جانیوالے لاک ڈاؤن کو مزید سخت اور اس کا دورانیہ 30 اپریل تک بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس میں وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت خفیہ ٹیموں اور چینی ماہرین نے الگ الگ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگلے چند روز میں کرونا کا وار مزید سخت ہو سکتا ہے جس میں لاہور سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ ہے اور اس میں لاہور سمیت صوبہ بھر میں لاک ڈاؤن کو ختم نہ کیا جائے اور نہ ہی اس میں نرمی کا مظاہرہ کیا جائے۔ مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں کے اوقات کار کو بڑھایا نہ جائے اور پہلے سے جاری لاک ڈاؤن کے حوالے سے ایس او پی پر سختی سے عمل کیا جائے اور اس میں لاک ڈاؤن کا دورانیہ اگلے 28 روز کے لئے بڑھایا جائے۔ چینی ماہرین سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں او رسپیشل برانچ کی پیش کردہ الگ لگ رپو ر ٹس میں اس بات کا بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ناکوں پر موجود پولیس افسران اور اہلکاروں کو مکمل طو رپر کرونا کٹس فراہم کی جائیں اور مکمل احتیاطی تدابیر کاا ستعما ل کیا جائے۔ شہر کی اہم شاہراؤں، مارکیٹوں اور بازاروں سمیت اہم چوراہوں میں کلورین کا سپرے کروایا جائے۔ شہریوں کی نقل و حرکت اور فاصلے کو یقینی بنایا جائے۔ مساجد میں نماز اور بالخصوص جمعتہ المبارک کی نماز کے حوالے سے جاری ایس او پی پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں سمیت چینی ماہرین کی پیش کردہ رپورٹس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم پاکستان سے مشاورت کے بعد لاک ڈاؤن کے دورانیہ کو بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت لگائے گئے لاک ڈاؤن 14 اپریل کو ختم نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اس کا دورانیہ مزید 28 روز کیلئے بڑھایا جا رہا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 30 اپریل تک دورانیہ بڑھانے کا رپورٹ میں ذکر کیا ہے جبکہ چینی ماہرین اور سپیشل برانچ کی تیار کردہ رپورٹ میں لاک ڈاؤن کو مزید 28 روز کے لئے بڑھانے مشورہ دیا گیا ہے اور اس میں لاک ڈاؤن کو روزانہ کی بنیاد پردوپہر اور رات کے دورانیہ میں چھ گھنٹے کے لئے لاک ڈاؤن کو انتہائی سخت کیا جائے اور اس میں شہریوں کو سڑکوں، بازاروں اور مارکیٹوں میں آنے نہ دیا جائے۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کو کامیاب کرنے سے کرونا وباکے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے لاہور پولیس کے سربراہ ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت شہر کے 250 مقامات پر کی گئی ناکہ بندی میں سے 100 مقامات پر ناکوں کو اے کیٹگری میں تبدیل کر دیا گیا ہے جن کی نگرانی متعلقہ ایس ڈی پی او خود کریں گے جبکہ ڈویژن کے ایس پیز بھی ناکوں کا وزٹ کر کے رپورٹ پیش کریں گے۔ اسی طرح 50 ناکوں کو بی کیٹگری اور باقی ناکوں کو سی کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے لئے ناکوں کی کیٹگریز کے حساب سے کرونا کٹس اور دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ پولیس افسران، اہلکاروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور انہیں نئے سرے سے ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اور اس میں اے کیٹگری کے 100 مقامات پر لگائے گئے ناکوں پر لاک ڈاؤن پر تعینات کئے گئے فوجی جوانوں کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں جس میں فوج جوان اور پولیس کمانڈو سمیت پولیس کے افسران و جوان کرونا کٹس اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ناکوں پر انتہائی الرٹ اور آج سے لاک ڈاؤن روزانہ کی بنیاد پر چھ گھنٹے کے لئے سخت کیا جائے گا جس میں مارکیٹیں، بازاروں اور دکانیں پہلے سے طے شدہ ایس او پی کے مطابق کھلیں گی اور بند ہوں گی اور اس میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر شورٹی بانڈز کی بجائے قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

لاک ڈاؤن توسیع

Monday, 6 April 2020

Latest Urdu Funny Jokes 2020 Urdu Funny Poetry 2020 Urdu Funny Latifay New 2020

April 06, 2020 0

Latest Urdu Funny Jokes 2020 Urdu Funny Poetry 2020 Urdu Funny Latifay New 2020

Latest Urdu Funny Jokes 2020 Urdu Funny Poetry 2020 Urdu Funny Latifay New 2020
Latest Urdu Funny Jokes 2020 Urdu Funny Poetry 2020 Urdu Funny Latifay New 2020

جماعت عشاء کی نماز میں چوتھی رکعت کے قیام میں کھڑی تھی پوری مسجد میں خاموشی تھی جب اچانک میرے ساتھ کھڑے لڑکے کا موبائل بجنے لگا۔۔۔۔

اس نے جلدی سے اپنی پینٹ کی پاکٹ کے باہر سے ہی موبائل کا کوئی بٹن دبایا تو آواز بند ہوگئی جب ہم تشہد میں بیٹھے تو اس لڑکے کو احساس ہوا کہ موبائل سے کسی کی ہلکی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ شاید کال کٹی نہیں تھی بلکہ ریسیو والا بٹن دب گیا تھا۔۔۔۔۔۔

 اس نے تشہد میں بیٹھے بیٹھے ہی کال کاٹنے کے لیے کوئی بٹن دبایا مگر شومئی قسمت کہ سپیکر آن ہو گیا۔ مسجد میں مکمل خاموشی تھی اس لیے پوری مسجد میں موبائل کے سپیکر سے آنے والی آواز گونجنے لگی۔۔۔۔

ہیلو جان، ابھی تک ناراض ہو؟ آپ بولتے کیوں نہیں؟
جان پلیز ایک بار بات کر لو نہ۔ پکا اب لڑائی نہیں کرونگی۔ 
سچ میں میر ا اپنے کزن سے کوئی تعلق نہیں، وہ تو دوپٹہ پیکو کروانے اس کے ساتھ گئی تھی تو گول گپے کھا لیے جہاں آپ نے دیکھا۔۔۔۔

""""""جان پلیز""""
لڑکا بیچارا لگا رہا مگر نہ کال کٹی نہ سپیکر آف ہوا۔ مولوی صاحب نے جلدی سے سلام پھیرا اور اس لڑکے نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔ اس کے پیچھے اس کے والد محترم بھی جوتی پہننے کی بجائے ہاتھ میں پکڑے باہر نکل گئے۔۔۔۔

بس اتنی گزارش ہے کہ بٹنوں والا موبائل رکھنا ہے تو پھر شرافت اپنا لیں۔۔۔۔ یا پھر آئی فون لے لیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
😂😁😜

***************
😅😜😜😜 کل دن میں ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی.......
فون اُٹھایا اور کہا...!!!
جی جناب ____
دوسری طرف سے کوئی خاتون تھیں،،،،، بولی : جی کے بچے...!!! صبح ناشتہ کیے بغیر کیوں چلے گئے آفس؟؟ 🤔 کتنی بار کہا ہے رات کی لڑائی کو صبح بھول جایا کرو لیکن تمہیں سمجھ نہیں آتی.....
آج تم آؤ تو سہی گھر،،،، تمہاری طبیعت صاف کرتی ہوں تیرے بچوں کا خیال نہ ہوتا تو کب کی تمہیں دفع دور کر چکی ہوتی.....!!!
وہ خاتون نان سٹاپ بولے جا رہی تھیں اور مَیں ہکا بکا سوچ رہا تھا کہ یہ کون معصوم عورت ہے جو مجھے اپنا میاں سمجھ کر کلاس لے رہی ہے.....
ادھر تو منگنی کا بھی دور دور تک کوئی سین نظر نہیں آتا.....
وہ ذرا رُکی تو مَیں نے کہا :: محترمہ آپ نے شاید رونگ نمبر پہ کلاس لے لی ہے لیکن مَیں آپ کا شکر گزار ہوں دو منٹ ہی سہی مجھے شادی شدہ والی فیلنگز آ گئیں آپ کی کلاس سے......

کہنے لگی :: بھائی مَیں بھی کوئی شادی شدہ نہیں ہوں
بس دل کی تسلی کے لیے رونگ نمبر پر مرد کی آواز سُن کر کلاس لے لیتی ہوں تو عجیب سی تسکین حاصل ہوتی ہے---🌾🌾

اسکو کہتے ہیں
. ## شدید کنواے
--------------------
*مرغی حرام ہو گئی.....!!*

بن بلاۓ مہمانوں کی آمد کا سن کر لمحہ بھر کے لیۓ چوھدری صاحب حقے کا کش لگانا بھول گئے!
بےچارے نام کے ہی چوہدری تھے، آمدنی محدود تھی، اور اخراجات زیادہ، سفید پوشی کا بھرم رکھنا دشوار ہو گیا تھا،
مہمان کمرے میں آبیٹھے،تو کچھ دیر بعد وہ باہر نکلے اور نوکر کو کھانا تیار کرنے کا حکم دیا،
"گھر میں تو سبزی ہے یا دالیں"نوکر نے دبی آواز میں کہا،
"وہ مرغی کس کی پھر رہی ہے" انہوں نے صحن کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ کہا،
ہمسائیوں کی ہے"دانہ دنکا چگنےآ جاتی ہے،"
"دانہ چگنے یا بیٹیں کرنے،،پکڑ اور ذبح کر اسے"، انہوں نے رعب دار آواز میں کہا اور اندر چلے گئے.
وہ مہمانوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ نوکر نے دروازہ بجا کر انہیں باہر بلایا اور ڈرتے،ڈرتے کہا،
"چوہدری جی! ذبح کرتے ہوۓ گردن علیحدہ ہو گئ ھے. مرغی حرام ھو گئ ھے جی"
"الو کا پٹھا"
چوہدری صاحب کا پارہ چڑھ گیا،
"پہلے حلال تھی کیا؟"
"پکا سالن"😂😂😜😜

Pakistani Media Role in Current Pandemic Pakistani Media Properties and Slap by Government

April 06, 2020 0

Pakistani Media Role in Current Pandemic Pakistani Media Properties and Slap by Government 

Pakistani Media Role in Current Pandemic Pakistani Media Properties and Slap by Government
Pakistani Media Role in Current Pandemic Pakistani Media Properties and Slap by Government 

عمران خان کے ہاتھوں میڈیا کی چھترول 

پاکستانی قوم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ خود کو بہت ذہین, فطین اور عقل مند سمجھتی ہے. دنیا کا کوئی شعبہ ہو. چاہے وہ کرکٹ ہو, انٹرنیشنل سیاست ہو, پاکستانی سیاست ہو, شعبہ طب ہو, یا کورونا وائرس ہو  یہ اس پہ اپنی رائے دینے میں کوئی ثانی نہیں رکھتی. 
یہی حال اس وقت ہمارے میڈیا اور میڈیا اینکرز کا ہے. جب بھی کوئی ٹی وی چینل آن کرو. ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے. کرونا پہ بحث چل رہی ہوتی ہے اور اس میں بجائے ڈاکٹرز کے نام نہاد تجزیہ کار, ٹی وی اینکرز یا کچھ بے وقوف سیاستدان کرونا وائرس پہ معلومات دے رہے ہوتے ہیں. کوئی بتا رہا ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات کیا ہیں. کوئی علاج بتا رہا ہوتا ہے کوئی حکومت کی نااہلی پہ بات کر رہا ہوتا ہے کہ یہ کیوں پھیلا. یہ سب دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک جاہل قوم ہیں.
 فضول قسم کے بے وقوف لوگوں کو ٹی وی پہ بلا کے اس آسمانی قدرتی آفت پہ رائے لی جاتی ہے بجائے اسکے کہ ملک کے مایہ ناز ڈاکٹرز کو بلا کے ان سے رائے لی جائے. قوم کو ایک شعور دیا جائے. قوم کو اس بلا کی تباہ کاریوں سے بچنے کی ترغیب دی جائے اور قوم کو ایک صحیح راستے پہ چلنے کی ترغیب دی جائے. لیکن بجائے یہ سب کرنے کے الٹا قوم کو ایک کنفیوژن میں دھکیلا جا رہا ہے تاکہ ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کر کے ریٹنگ بڑھائی جائے. ایک مقولہ ہے کہ  """""  ڈر پیدا کرو گے تو مال بکے گا """""
میرا سوال ہے کہ ایک میٹرک پاس سیاستدان وائرس پہ بریفنگ کیسے دے گا ؟
ایک جرنلسٹ وائرل اٹیک کی تباہ کاریوں سے بچنے کا کونسا طریقہ بتائے گا ؟
ایک تجزیہ کار جو صرف ٹی وی پہ بیٹھ کے لوگوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے. وہ کورونا وائرس کا علاج کیسے بتائے گا ؟
بات وہیں پہ آ جاتی ہے کہ جب تک ڈر رہے گا. مال بکے گا. 
پاکستان میں میڈیا ایک بے لگام مافیا ہے. جس کو آج تک کوئی نکیل نہیں ڈال سکا. مجھے جنرل پرویز مشرف کی بات بہت یاد آتی ہے. اس سے سوال پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے دور حکومت میں سب سے بڑی غلطی کیا کی ؟
تو اس نے ایک تاریخی جملہ بولا
"""میڈیا کو آزادی دینا میری بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ میری قوم ابھی میچور نہیں تھی """"
اور آج وزیراعظم عمران خان کی میڈیا بریفنگ کے دوران مجھے مشرف صاحب کی یہ بات حرف بحرف درست ثابت ہوئی. آزاد بے لگام میڈیا بدتمیزی کی حد تک جا رہا تھا لیکن آپ کا پرائم منسٹر آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہے. اس نے نہ صرف تحمل سے تمام سوالوں کے جواب دیئے بلکہ بلکہ پوری قوم جو ایک مایوسی کی کیفیت میں تھی.اسے کچھ سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا اور اسکے  ساتھ ساتھ پرائم منسٹر نے سب میڈیا اینکرز کو تمیز بھی سکھائی. 

لیہ سے تعلق رکھنے ایک بکاؤ صحافی جس کا پورا خاندان آج بھی لوگوں کی گندم کاٹ کے محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے (جبکہ محنت میں عظمت ہے  اس میں کوئی برائی نہیں). رؤف کلاسرہ نامی شخص جب اقتدار کے اونچے ایوانوں میں بیٹھنے والوں میں بیٹھنے لگا تو اپنی اوقات بھول گیا. یہ ہم سب سرائیکیوں کا مسئلہ ہے کہ ہم کسی کی عزت برداشت نہیں کر سکتے. اندر سے جلتے کڑھتے رہتے ہیں. بددعائیں کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ اس سے سب کچھ چھین لے. یہ ہمارا نفسیاتی پرابلم ہے. اور آج پریس کانفرنس میں یہی نفسیاتی مسئلہ کھل کے سامنے آیا. میڈیا ٹاک کورونا وائرس پہ تھی لیکن رؤف کلاسرہ نے میڈیا کے مسائل اور میر شکیل کی گرفتاری کا کیس پیش کرتے ہوئے بدتمیزی کی حد الفاظ استعمال کئے. اور عمران خان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ آپ بلکل ناکام ہیں. آپ خود سوچئے... کہ جو شخص ایک گھنٹے کے پروگرام کیلئے ٹی وی مالکان کے تلوے چاٹتا ہے وہ وزیر اعظم کو کہ رہا ہے کہ 
آپ کی میڈیا سے لڑائی ہے... 
آپ کی سیاستدانوں سے لڑائی ہے 
آپ کی پورے ملک سے لڑائی ہے
آپ کی کوئی کارکردگی نہیں 
آپ کورونا پھیلانے کے ذمہ دار ہیں... 
لیکن سلام ہے مرد بحران کو کہ اس نے تمام باتیں تحمل سے سنیں اور بڑے مہذب انداز میں اتنا کہا  کہ کلاسرہ صاحب میڈیا بہت آزاد ہے. یہی باتیں جو آپ میڈیا پہ کرتے ہیں. اگر آپ یورپ کے کسی ملک میں کریں تو آپ کے ٹی وی چینل بند ہو جائیں. آپ قابل احترام ہیں. لیکن آج ہم یہاں صرف کورونا پہ بات کرنے آئے ہیں اور آپ میر شکیل کا رونا لیکے بیٹھ گئے. پوری قوم اس وقت کورونا کے متعلق جاننا چاہتی ہے کہ اسکا انجام کیا ہو گا؟ اس کے بعد اس اجڈ دیہاتی آدمی کا منہ لٹک گیا اور عمران خان نے بڑے مدلل انداز میں کورونا کے پھیلاؤ پہ بریفنگ دی. 

یہ بات شاید ہمارے ملک کے مشہور بھانڈ خاندان سے تعلق رکھنے والے خاندان سے پیدا ہونے والی ایک خود ساختہ صحافی ارشاد بھٹی  ( بھانڈ جسے ہم مسلی کہتے ہیں جو گاؤں میں شادی بیاہ کی تقریبات میں برات یا ولیمہ کے وقت اپنی انٹری ڈالتے ہیں اور لوگوں کو چند لطائف سنا کر اپنی ویل وصول کر کے... بھاگ لگے رہن.... کی صدائیں دیتے رخصت ہو جاتے ہیں)  ...کو بھی بری لگی تو اس نے رؤف کلاسرہ کی بے عزتی کا بدلہ لینے کی کوشش کی. اس نے اسی طرح بھانڈ گیرانہ انداز میں اپنی بات شروع کی تو وزیر اعظم نے فورن ٹوک دیا کہ بھٹی صاحب آج بات صرف کورونا وائرس پہ ہو گی تو اس کا منہ بھی لٹک گیا اور اس سے کوئی ویلڈ سوال بن ہی نہیں پایا. 
اس کے بعد عبد المالک کی باری آئی تو اس نے آتے بدتمیزی اور توہین کی انتہا کر دی. چھوٹتے ہی سوال کیا کہ وزیراعظم صاحب میں سوال آپ سے کروں گا کیونکہ آپکے ارد گرد الیکٹڈ لوگ بیٹھے ہیں. جبکہ وہاں چیرمین این ڈی ایم ے,چیرمیں انفیکشن کرائسز جو دن رات اس انفیکشن سے مقابلہ کر رہے ہیں,وہ سب وہاں موجود تھے .اسکی یہ بات انتہائی بھونڈی اور غیر ذمہ دارانہ تھی. اگر میں وزیراعظم کی جگہ ہوتا تو اسے فورن اٹھا کے باہر پھینکوا دیتا لیکن سلام ہے ہمارے پرائم منسٹر کو. انہوں نے بڑے تحمل سے جواب دیا کہ مالک صاحب کبھی امریکہ کے صدر کے ارد گرد لوگوں کو دیکھئے گا کہ اس کے ساتھ کون لوگ ہوتے ہیں. کیا وہ تھنک ٹینک کے لوگ نہیں ہوتے. پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ انکی ایکسپرٹیز کے مطابق ان سے کام لیتے ہیں... تب انکا منہ لٹکا لیکن پھر بھی باز نہیں آئے. اس نے وزیر اعظم اور پوری ٹیم کی بھر پور توہین کرنے کی کوشش کی بلکہ یہاں تک کہ دیا کہ کل کو اگر کورونا پھیل گیا تو میں آپکا گریبان پکڑوں گا. لیکن عمران خان نے تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اسکی تسلی کرائی. ان موصوف کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ چند سال پہلے یہ موصوف ایک پرانی سی بائیک پہ اخبار بیچا کرتے تھے لیکن اچانک مبشر لقمان کی طرح امیر ہو گئے اور آج کل مرسیسیڈیز بینز میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ہماری سابقہ حکومتیں اداروں کو اتنا کمزور کر چکی ہیں کہ ان جیسے بھیڑیے کھلے عام ہم جیسی غریب بھیڑوں کا گوشت کھا کے اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور کوئی انکا کچھ نہیں بگاڑ پا رہا.... یہ معاشرے کے وہ ناسور ہیں جو کہ RAW سے زیادہ اس ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں. عوام میں فرسٹریشن پھیلا رہے ہیں. ان ناسوروں کی وجہ سے قوم اپنی کوئی سمت متعین نہیں کر پا رہی .حیران ہوں کہ یہ گھر میں اپنے بیوی بچوں کا سامنا کیسے کرتے ہوں گے. پورا ملک انکو گالیاں دیتا ہے لیکن انکی ڈھٹائی کی انتہا ہے کہ یہ ہر شام کو نیا سوٹ ٹائی لگا کے قوم کو ایک نیا راستہ دینے کی کوشش کرتے ہیں. قوم کو چاہیئے ان کالے بھیڑیوں کا مکمل بائیکاٹ کرے.... یہ معاشرے کا ایک بدنما داغ ہیں. یہ اگر کسی یورپ یا امریکہ جیسے کسی ملک میں ہوتے تو کسی ہوٹل میں برتن مانجھ رہے ہوتے... 
اب پریس کانفرنس پہ آتے ہیں. کل کی ہونے والی پریس ٹاک امید سے بھر پور تھی جس نے پوری قوم کو ایک ہیجان سے نکالا. چیرمین این ڈی ایم اے کی کوششیں ڈسکس کی گئیں. ان کے اس آفت سے نمٹنے کی تیاری پہ ڈسکس کی گئی. ڈاکٹر ظفر مرزا کی کاوشں قابل تعریف تھی. عمران خان کا اپنی قوم کیلئے واضع پیغام تھا کہ آپ اپنے گھروں میں سکوں سے رہیئے .ہم آپکی حفاظت کیلئے موجود ہیں. کل پہلی بار مایوسی ایک امید میں بدل گئی. نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن عمران خان نے ثابت کیا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ اس سسکتی بلکتی قوم کے ساتھ کندھے سے کندھے ملائے کھڑا ہے... یقین ہو گیا کہ اللہ کے بعد ہمارا مالک پرائم منسٹر ہے اور وہ ہماری پوری طرح حفاظت کرنے کی طاقت رکھتا ہے... اپوزیشن کا حال تو آپ نے دیکھ لیا کہ شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر میر شکیل الرحمان کو رہا کر دیا جائے تو کورونا وائرس پہ قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے. آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ میر شکیل پہ توہین رسالت کی ہزاروں ایف آئی آرز ہیں جو کہ ن لیگ کے دور رجسٹر ہیں جو کہ ن لیگ کے دور میں رجسٹرڈ ہوئیں. جبکہ آج وہی ن لیگ کورونا وائرس پہ قابو پانے کیلئے میر شکیل کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے... کتنی سٹوپڈ بات ہے کہ کیا میر شکیل کوئی اینٹی وائرس ہےکہ جس کے کھانسنے سے کورونا وائرس دم توڑ دے گا. ایک ہونق اور پاگل انسان جسے ہم نے 35سال حکومت دی. وہ اگر ایسی بات کرے گا تو رونا تو آئے گا اپنی بے وقوفی اور قسمت پہ کہ ہم کس کس طرح کے بے وقوف انسانوں کو اپنا نجات دہندہ مانتے رہے  
آخر میں میں وزیراعظم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پوری قوم اور اسکے جوان مصیبت کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں. آپ ہمارے لئے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہیں. دکھ کے اس موقع پہ ہم آپ کے شانہ شانہ کام کریں گے. اس قوم کے ہر جوان آپکی ایک کال پہ لبیک کہیں گا. جس طرح آپ اس قوم کی حفاظت کر رہے ہیں. ہم آپکی حفاظت کریں گے. آپ کو جہاں بھی ضرورت ہے ہم حاضر ہیں. موت تو آنی ہی ہے وہ کورونا وائرس سے آئے یا گھر بیٹھے آئے.... وہ تو آنی ہی ہے.. ہم آپکی کال پہ گھر پہ دبک کے نہیں بیٹھیں گے... اگر کورونا پھیلتا ہے تو ہم آپ کے ساتھ ہیں. ہم میڈیکل ایکسپرٹس تو نہیں ہیں لیکن کم از کم ہسپتالوں میں کوئی چھوٹا موٹا کام تو کر سکتے ہیں.. ہسپتالوں کی صفائی تو کر سکتے ہیں.. مریض کی کروٹ تو بدل سکتے ہیں. ہم آپ کے ساتھ اس طرح مل کے کام کریں گے.. جس طرح چائنہ کہ عام عوام نے ڈاکٹرز کے ساتھ مل کے کیا.. یہ صرف ڈاکٹرز کا مسئلہ نہیں... پوری قوم کا مسئلہ ہے اور اس وقت پوری قوم آپ کے اور ڈاکٹرز کے ساتھ ہے... 
سب سے پہلے میں اپنی تمام خدمات آپ کیلئے, کورونا وائرس کیلئے وقف کرتا ہوں. مجھے اگر ہسپتال کے واش رومز بھی صاف کرنے پڑے تو میں انشا اللہ دکھ کی اس گھڑی میں کروں گا. اگر میری وجہ سے کسی ایک انسان کی بھی جان بچ گئی تو گویا میں نے پوری انسانیت کی جان بچالی 
اللہ آپکو اس مصیبت سے نکلنے کی طاقت عطا فرمائے...

Saturday, 18 January 2020

Top Pakistani Drama Meray Paas Tum Ho ARY Drama Serial Last Episode What Going to be Happened میرے پاس تم رومینٹک ڈرامہ اے آر وائی اسپیشل

January 18, 2020 0

Top Pakistani Drama Meray Paas Tum Ho ARY Drama Serial Last Episode  What Going to be Happened  میرے پاس تم رومینٹک ڈرامہ  اے آر وائی اسپیشل 

Meray Paas Tum Ho 

مقبول ترین ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو کی آخری قس
 ریلیز سے قبل ہی سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق  ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘شہرت کی بلندیوں پر ہے، ہمایوں سعید اور عائزہ خان نے اپنی اداکاری کے ذریعے ایسا سحر طاری کیا ہوا ہےکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود اپنے مداحوں کو ڈرامہ دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔
پاکستانی ڈرامہ میرے پاس تم ہو اب  سنیما گھر کی زینت بنے گا
 اب یہ ڈرامہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہونے جا رہا ہے اور اسی بات کے پیش نظر ڈرامے کی آخری قسط پاکستان بھر کے سنیماؤں میں دیکھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
لیکن خبر یہا ں یہ ہے کہ اس ڈرامے کی آخری قسط سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی ہے اور تیزی سے اسٹوری وائرل بھی ہو رہی ہے۔
سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق آخری قسط میں جو اہم پیش رفت ہو گی وہ مہوش(عا ئزہ) کی مو ت،شہوار(عدنا ن صدیقی) کی عمر قید اور دا نش(ہمایوں سعید) کی ٹیچر ہا نیہ (حرا مانی)سے شا دی ہے۔
اب یہ سب کیسے ہو گا ؟ یہ ایک الگ کہا نی ہے ،آخری قسط میں سب سے اہم با ت یہ ہے کہ دا نش بالآخر اپنی سا بقہ اہلیہ مہو ش سے ملنے اس کے فلیٹ چلا جا ئے گا تاہم اسی دوران شہوار بھی مہوش سے ملنے کی خاطر مہوش کے فلیٹ جا نے کا ارادہ کر لے گا۔
کہا نی کچھ یہ ہے کہ جب شہوار ،مہوش کے اپارٹمنٹ میں پہنچتا ہے  تو وہ وہا ں دانش اور مہوش کو ساتھ دیکھ کر ملنے کا ارادہ تر ک کر کے وا پسی کی را ہ لینے لگتا ہے کہ اچانک دانش سے بدلا لینے کا خیا ل غالب آجا تا ہے۔
شہوار اپنی کار سے پسٹل لے کر سیڑھیو ں کے راستے مہوش کے فلیٹ جا تا ہے اور گھنٹی  بجا کر در وازہ کھلنے کا انتظار کر تا ہے۔
فلیٹ میں مو جود مہوش اور دانش جو کہ گفتگو میں مصروف ہوتے ہیں گھنٹی کی آواز پر چو نک جا تے ہیں جس کے بعد دا نش دروازے کی طرف بڑھ کر اسے کھو لتا ہے اور پھر شہوار اور دانش کا مہوش کے فلیٹ کے دروازے پر آمنا سامنا ہو جا تا ہے۔
اس غیر متوقع صورتحال کے بعد وہا ں کچھ دیر کےلئے خامو شی چھا جا تی ہے تا ہم شہوار بد لے کی آگ میں جل رہا ہو تا ہے لہذا وہ وقت ضائع کیے بغیر دانش پر فائر کر دیتا ہے۔
اسی دوران وہا ں مو جود مہوش مو قع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فورا حرکت میں آتی ہے اور اپنے سا بقہ شوہردانش کو بچاتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلتی ہےاور سا بقہ محبوب شہوار کی گو لی اپنے سینے پر کھا لیتی ہے۔
اس کے بعد مہوش کے قتل میں شہوار زندگی بھر کےلئے جیل کی سلا خوں کے پیچھے چلا جا تا ہے جبکہ دا نش اپنے بیٹے رو می کی خواہش  پوری کر تے ہوئے اس کی ٹیچر ہا نیہ سے شا دی کر لیتا ہے۔

Saturday, 22 December 2018

Mahira Khan on banning Bollywood stars in Pakistan

December 22, 2018 0

Mahira Khan on banning Bollywood stars in Pakistan

Mahira Khan on banning Bollywood stars in Pakistan
Mahira Khan on banning Bollywood stars in Pakistan

بالی ووڈ میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، جب پاکستانی گلوکاروں جیسے راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم نے مختلف منصوبوں کو اپنی آواز پیش کی. اور اس کے بعد تنازع سامنے آتے ہیں۔

تاہم، جب سپرسٹار ماہرہ خان سے حالیہ واقعات کا پوچھا تھا کہ آیا ہندوستانی فنکاروں کو بھی پاکستان میں پابندی عائد کرنی چاہئے، ہمسفر اداکارہ نے کہا کہ اب بالی ووڈ میں چیزیں تبدیل ہوجاتی ہیں اور یہ پابندی ختم ہوسکتی ہے. "یہ کچھ ہے جو میں نے کئی بار جواب دیا ہے لیکن میں نے سنا ہے کہ اب بالی ووڈ کے ساتھ چیزیں بدل رہی ہیں."

ماہرہ خان نے دوبارہ کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ ہم دوبارہ بازیابی کرکے کچھ حل کریں گے، اور میں سوچتا ہوں کہ چیزیں تبدیل کرنے کے لۓ کام نہیں کریں گے."

اداکارہ کے مطابق، وہ بالی ووڈ کی تفریحی صنعت کے خلاف کوئی تعصب نہیں رکھتی اور انہوں نے مزید کہا، "آپ نے ہمیں پابندی دی، ہم نے آپ پر پابندی لگا دی، آپ ایسا کرتے ہیں، ہم ایسا کرتے ہیں، نہیں، میں نے ایسا نہیں سوچا. مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک حیرت انگیز صنعت ہیں اور میرے ساتھ ابھی تک بہت قریب دوست ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ ہم بھی ایک اچھی صنعت سے ہیں. دنیا بھر میں آرٹ کا تبادلہ ہونا چاہئے. "

بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں پر پابندی دو سال پہلے سے زیادہ تھی، شاہ رخ خان کے ساتھ ساتھ فواد خان کے اے دل ہے مشکیل اور ماہرہ خان کی رئیس کی ریلیز سے پہلے. چلو انتظار کریں اور دیکھیں گے کہ بہتر چیزیں بہتر ہو گی.

Friday, 12 October 2018

Naya Pakistan Housing Program Application Form Download

October 12, 2018 1

Naya Pakistan Housing Program Application Form Download

Prime Minister of Pakistan Imran Khan has announced Naya Pakistan Housing Program for those people who don't have their own house. This program is design to facilitate lower middle income people who can't afford to build their own home with limited salary. Government of Pakistan with coalition of foreign investors start this project. Initially first phase of this project will commenced within 7 district details are below:
Sukkur
Quetta
Gilgit
Muzafarabad
Sawat
Islamabad
Faisalabad

This application forms can be collected by the district housing program office from 22nd October to 21st December 2018.
Photocopy of application forms accepted.

Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms

Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms
Download Neya Pakistan Application Forms

Application Form Neya Pakistan

Thursday, 19 April 2018

Tор 4 Benefits оf Dаting Beautiful Oldеr Wоmеn

April 19, 2018 0
Tор 4 Benefits оf Dаting Beautiful Oldеr Wоmеn, Arе уоu aware thаt thе reason why уоu'rе ѕtill ѕinglе аnd dаtеlеѕѕ аll thеѕе уеаrѕ iѕ because уоu'rе dating thе wrong kind оf girl? Hоw аbоut dating beautiful оldеr women inѕtеаd? Yоu may think it'ѕ nоt your cup оf tеа, but dates аrе juѕt dаtеѕ. Thеу соmе withоut any strings аttасhеd аnd уоu саn wаlk away if it dоеѕn't wоrk оut. But what if it dоеѕ?
Tор 4 Benefits оf Dаting Beautiful Oldеr Wоmеn

Tор 4 Benefits оf Dаting Beautiful Oldеr Wоmеn

Arе уоu aware thаt thе reason why уоu'rе ѕtill ѕinglе аnd dаtеlеѕѕ аll thеѕе уеаrѕ iѕ because уоu'rе dating thе wrong kind оf girl? Hоw аbоut dating beautiful оldеr women inѕtеаd? Yоu may think it'ѕ nоt your cup оf tеа, but dates аrе juѕt dаtеѕ. Thеу соmе withоut any strings аttасhеd аnd уоu саn wаlk away if it dоеѕn't wоrk оut. But what if it dоеѕ?

Hеrе are a numbеr оf thingѕ уоu саn enjoy when dating beautiful оldеr women.

1. Thеу dоn't nееd уоu tо do something for them.

It's not thаt уоungеr girls аrе hеlрlеѕѕ оr lасking in intеlligеnсе in аnу wау. Mаnу of thеm are feisty and smart, but thеу'll ѕtill nееd уоu to dо a lot of thingѕ fоr thеm bесаuѕе thеу'rе young аnd thеу'rе at the ѕtаgе of thеir lifе whеrе they mау nоt еvеn be legally реrmittеd to perform or enjoy сеrtаin асtivitiеѕ. But if you dаtе bеаutiful оldеr wоmеn, thеу'll rarely nееd аnуthing frоm уоu. If аnуthing, thеу'll probably be more thаn willing tо hеlр уоu out whеn you're thе оnе in need.

2. Bеаutiful оldеr women won't watch уоu likе a hawk.

Thеу саn lеаd thеir lives without hаving tо nееd уоu tо be оn саll likе a lapdog. Because thаt'ѕ what thеу hаvе - thеir оwn livеѕ! Their livеѕ do nоt revolve аrоund you, аnd dоn't уоu find thаt ѕеxiеr? Thеу wоn't need уоu to саll them еvеrу dау, thе moment уоu wаkе uр, thе mоmеnt bеfоrе you go tо ѕlеер, аnd thеу сеrtаinlу wоn't ask уоu to rероrt to them еvеrу timе you step оut of thе hоuѕе.

They wоn't bе jеаlоuѕ fоr a rеаѕоn аnd thеу certainly won't bе clingy. Thеу know thеir worth аnd if you сhеаt оn them, they're confident enough tо wаlk аwау, knоwing that it'ѕ your loss. And it mоѕt likеlу iѕ!

3. Beautiful оldеr wоmеn knоw how tо соmрrоmiѕе.

Sometimes, girlѕ are at the point whеrе thеу'rе ѕо idealistic thаt they givе уоu everything inѕidе thеir hearts and еxресt you tо do the same thing. But thаt'ѕ nоt right. Fаlling in lоvе dоеѕn't rеԛuirе you to give uр your entire ѕеlf аnd lеаvе nothing fоr ѕеlf-lоvе. It'ѕ аbоut sharing аnd becoming better bу being with еасh оthеr.

Whеn уоu'rе dаting a mаturе woman, уоu can еxресt hеr tо bе willing аnd еvеn initiаtе соmрrоmiѕing bесаuѕе ѕhе understands that's hоw thingѕ ѕhоuld wоrk in relationships. Shе wоn't аѕk уоu fоr аnуthing unreasonable аnd ѕhе еxресtѕ you tо dо the same fоr hеr.

4. Bеаutiful older wоmеn саn tеасh уоu things.

Yоu'rе thinking аbоut naughty stuff, аrеn't уоu? And sure, thаt may be оnе оf thе things that you could learn frоm thеm but mоrе than that, уоu can асtuаllу lеаrn аbоut mоrе imроrtаnt stuff from them. Thеу hаvе more еxреriеnсе аnd уоu can bеnеfit from thеir wiѕdоm. Yоu could avoid a lоt of rookie miѕtаkеѕ juѕt bу fоrgеtting your рridе and liѕtеning tо what thеу have tо say. With their help, you could be thе best that уоu can bе, and thеу'll be hарру fоr уоu.



Whаt else can уоu аѕk for?